MOJ E SUKHAN

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے
کیا سمائی تھی بھلا دیوانے کے سر دیکھیے

پر سکوں لگتی ہے کتنی جھیل کے پانی پہ بط
پیروں کی بے تابیاں پانی کے اندر دیکھیے

چھوڑ کر جس کو گئے تھے آپ کوئی اور تھا
اب میں کوئی اور ہوں واپس تو آ کر دیکھیے

ذہن انسانی ادھر آفاق کی وسعت ادھر
ایک منظر ہے یہاں اندر کہ باہر دیکھیے

عقل یہ کہتی دنیا ملتی ہے بازار میں
دل مگر یہ کہتا ہے کچھ اور بہتر دیکھی

جاوید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم