MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ستارے پلکوں پہ جلوہ گر تھے شکست عزم فغاں سے پہلے

ستارے پلکوں پہ جلوہ گر تھے شکست عزم فغاں سے پہلے
غم نہاں سے زمانہ واقف تھا شرح سوز نہاں سے پہلے

ہماری ہی سعئ جستجو نے سراغ منزل دیا جہاں کو
تلاش منزل میں ہم روانہ ہوئے تھے ہر کارواں سے پہلے

پسند آیا نہ بجلیوں کو کوئی جو کرتیں طواف ان کا
ملے کئی اور بھی نشیمن انہیں مرے آشیاں سے پہلے

ستم رسیدوں کی انجمن میں چھڑے ہیں جب ظالموں کے چرچے
تمہارا نام آ گیا ہے اکثر زبان پر آسماں سے پہلے

انہیں یہ ضد ہے سنیں گے میری زباں سے میرا فسانۂ غم
میں سوچتا ہوں فسانۂ غم سناؤں بھی تو کہاں سے پہلے

تمہاری خلوت کدے کے پردے اٹھے ہوئے ہیں درست لیکن
چھڑا تو لوں دامن نظر کو تحیر بیکراں سے پہلے

غرض کے بندے ہیں اہل عالم نہیں کوئی با وفا جہاں میں
نہ کیجیے فیصلہ ابھی یہ نصیرؔ کے امتحاں سے پہلے

نصیر کوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم