MOJ E SUKHAN

کوئی بھی خوش ہو میں اپنی خوشی سمجھتا ہوں

غزل

کوئی بھی خوش ہو میں اپنی خوشی سمجھتا ہوں
میں زندہ شخص ہوں اور زندگی سمجھتا ہوں

کئی تو تم سے بھی بہتر ملے ہیں لوگ مجھے
مگر کمی ہے جو اس کو کمی سمجھتا ہوں

یہ وہ دکھاتا ہے جو روشنی دکھاتی نہیں
سو میں اندھیرے کو بھی روشنی سمجھتا ہوں

بہت سی چیزیں ہیں جو میری حد سے باہر ہیں
سو جتنی حد ہے مری میں وہی سمجھتا ہوں

چلا تو جائے گا لیکن نشان چھوڑ کے یار
اگرچہ دکھ کو بھی میں سرسری سمجھتا ہوں

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم