MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کھولیں گے نہیں قفل نہ پہچان کریں گے

غزل

کھولیں گے نہیں قفل نہ پہچان کریں گے
ہم دور سے اندازہ ء زندان کریں گے

سیٹی سےبلالیں گے پرندوں کو زمیں پر
مینار ترے شہر کے ویران کریں گے

صحرا میں اتاریں گے سفینے مرےملاح
دریا ترے پانی کو پریشان کریں گے

اک بار فقط اذنِ ملاقات عطا ہو
پھروصل کی خواہش نہ مری جان کریں گے

یہ ہجر زدہ لوگ اگر روتے رہے تو
بپھرے ہوئے دریا کو بھی حیران کریں گے

اس طرزِ ہنرمندی سےہم اسکو چھوئیں گے
پتھر بھی اگر ہے اُسے مرجان کریں گے

اسد رضا سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم