MOJ E SUKHAN

کون کس کے گرد، محوِ رقص ہے مت سوچئے

کون کس کے گرد، محوِ رقص ہے مت سوچئے
اپنے اپنے دائروں میں رہ کے خود کو کھوجئے

دوسروں کے غم میں کیوں ہلکان خود کو کیجئے
اپنا رونا ہی بہت ہے کیوں کسی کا روئیے

جس کے برگ و بار پر سایہ پڑے مہتاب کا
جس کی شاخیں، آسماں تک ہو شجر وہ بوئیے

کیوں کوئی بانہیں کشادہ آپ کی خاطر کرے
اپنے ہی بازو پہ رکھئے، سر سکوں سے سوئیے

کیوں بھٹکتے پھر رہے ہو عہدِ رفتہ میں سحر
دل بھی پہلو میں کبھی ہوتا تھا، اسکو کھوجئے

شائستہ سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم