MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا
بدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا

سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھے
مگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا

دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نام
قصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا

یہ کس حساب سے کی تو نے روشنی تقسیم
ستارے مجھ کو ملے ماہتاب اس کا تھا

فلک پہ کرچیاں آنکھوں میں موتیا آنسو
جو ریزہ ریزہ ہوا آفتاب اس کا تھا

مری ذرا سی چمک کو کڑک نے ٹوک دیا
سوال تجھ سے کیا تھا جواب اس کا تھا

کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میری
کتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم