MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

کہانی : آزمائش

کہانی : آزمائش
تحریر مہوش اشرف

عادل اپنے ماں باپ کا اکلوتا اور چہیتا بیٹا تھا گو کہ اس کے والد ایک مل میں مزدور تھے پر کبھی اس کی کوئی فرمائش رد نہیں ہوتی تھی.
آج بھی ہمیشہ کی طرح اس کی والدہ نے اس کی ناز برداریاں کرتے ہوئے اسے اسکول کے لئے جگایا. آج شام سمندر جانے کا پروگرام تھا. ناشتے پر اماں اور ابا نے اسے سرپرائز گفٹ سائیکل کی صورت میں دیا. پچھلی رات ابا نے ڈبل شفٹ میں کام کیا تھا چہرے سے تھکے تھکے معلوم ہوتے تھے. عادل کو اسکول چھوڑنے نکلے تو باپ بیٹے کی میٹھی میٹھی باتوں سے لطف اندوز ہوتا رہا پر آج کچھ طبعیت خراب معلوم ہوتی تھی جس کا شائبہ تک عادل کو جانے نہ دیا اور شام کی بابت دونوں سارے رستے محو گفتگو رہے.
چھٹی پر وہ اجنبی چہروں کے درمیان ابا کا چہرہ ڈھونڈتا رہا پر جب ابا کہیں نظر نہ آئے تو محلے کے بچوں کے ساتھ گھر کی راہ لی. نہ جانے کیوں اس کا دل بے چین ہوا جارہا تھا.
امی کہتی ہیں کہ دلوں کا چین ذکرِ الٰہی میں ہے یہ سوچ کر اس نے آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی اور جتنی دعائیں اس کو یاد تھیں پڑھاتا گیا…
گھر کی دہلیز پر ہجوم دیکھ کر اس کا دل ڈوبنے لگا. یا الہی خیر
دس سالہ عادل ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوا تو ایک قیامت اس کی منتظر تھی.
ابا کو ہاٹ اٹیک آیا تھا اور وہ اسے چھوڑ کر بہت دور جا چکے تھے. سر سے شفیق باپ کا سایہ اٹھ چکا تھا. یوں وقت نے پلٹا کھایا تو اچھے وقتوں کے دوست احباب بھی جاتے رہے. رشتے داروں نے منہ پھیر لیا. عادل کی ماں اللہ والی خود دار عورت تھی. جیسے تیسے وقت کے پہیے کو دھکا دینے لگی پر قدرت کو ابھی معصوم عادل کا مزید امتحان درکا تھا. شب و روز کی محنت سے ماں کی صحت جاتی رہی. اب وہ زیادہ تر بیمار رہنے لگی تھی پہلے ساری جمع پونچی علاج پر لگ گئی پھر گھر کا سامان ایک ایک کر کے عادل نے بیچا اور آخر کا اس کی سائیکل بھی بک گئی پر پھر بھی ماں جاں بر نہ ہوئی اور ایک دن وہ بھی اسے داغ مفارقت دے گئی.
عادل چچا اصغر کے در پر آگیا.چچا کے چاروں بچے اسکول جاتے گھی لگی روٹی کھاتے اور عادل کا دستر خوان کچن کی دہلیز ہوتا جہاں اسے بچا ہوا سالن روٹی ملتی اکثر بھوکا رہ جاتا اور آنسو پی کر سونا پڑتا.
چچی کے طعنے اور چچا کے بہانے وہ وقت سے پہلے سمجھ دار ہوگیا یہاں اسے روٹی ملی نہ محبت…..!!
اس کا اسکول چھوٹ گیا. اب اس کا زیادہ تر وقت قبرستان میں ماں باپ کے سرہانے روتے گزرتا. چچی کو مزید اعتراضات ہونے لگے. سارا سارا دن آوارگی کرتا ہے کہاں غائب رہتا ہے پوچھو تو جواب نہیں دیتا آنکھیں دیکھو اصغر اس کی کہیں نشہ تو نہیں کرنے لگا ماں باپ کو کھا گیا کرم جلا جب سے یہاں آیا ہے برکت ہی اٹھ گئی ہے چچی کے جو منہ میں آتا بکتی جاتیں عادل کو کوستی چچا اصغر چچی کی باتوں میں آکر عادل کو خوب مارتا.. !!
سارا سارا دن عادل ماں باپ کو یاد کر کے روتا پھر ایک دن ماں اس کے خواب میں آئی اس کا حوصلہ بڑھایا اس کو یاد دلایا کہ اللہ تعالٰی جو ستر ماؤں سے زیادہ ہمیں چاہتا ہے اپنے مقرب بندوں کا امتحان لیتا ہے انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے اور جو لوگ ثابت قدم رہتے ہیں اصل کامیابی انہیں کے لئے ہے
اگلی صبح عادل نئے عزم کے ساتھ جاگا اور مل کی راہ لی جہاں اس کے ابو کام کیا کرتے تھے.
مہوش اشرف

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین