MOJ E SUKHAN

کہاں آیا ہے دیوانوں کو تیرا کچھ قرار اب تک

کہاں آیا ہے دیوانوں کو تیرا کچھ قرار اب تک
ترے وعدے پہ بیٹھے کر رہے ہیں انتظار اب تک

خدا معلوم کیوں لوٹی نہیں جا کر بہار اب تک
چمن والے چمن کے واسطے ہیں بے قرار اب تک

برا گلچیں کو کیوں کہئے برے ہیں خود چمن والے
بھلے ہوتے تو کیا منہ دیکھتی رہتی بہار اب تک

چمن کی یاد آئی دل بھر آیا آنکھ بھر آئی
جہاں بولا کوئی گلشن میں باقی ہے بہار اب تک

سبب جو بھی ہو صورت کہہ رہی ہے رات جاگے ہو
گواہی کے لئے باقی ہے آنکھوں میں خمار اب تک

قیامت آئے تو ان کو بھی آتے آتے آئے گا
وہ جن کو تیرے وعدے پر نہیں ہے اعتبار اب تک

سلامت مے کدہ تھوڑی بہت ان کو بھی دے ساقی
تکلف میں جو بیٹھے رہ گئے کچھ بادہ خوار اب تک

خدارا دیکھ لے دنیا کہ پھر یہ بھی نہ دیکھے گی
چمن سے جاتے جاتے رہ گئی ہے جو بہار اب تک

قفس میں رہتے رہتے ایک مدت ہو گئی پھر بھی
چمن کے واسطے رہتی ہے بلبل بے قرار اب تک

خبر بھی ہے تجھے مے خوار تو بدنام ہے ساقی
دبا کر کتنی بوتل لے گئے پرہیزگار اب تک

ارے دامن چھڑا کر جانے والے کچھ خبر بھی ہے
ترے قدموں سے ہے لپٹی ہوئی خاک مزار اب تک

یہ کہنے والے کہتے ہیں کہ توبہ کر چکے بسملؔ
مگر دیکھے گئے ہیں میکدے میں بار بار اب تک

بسمل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم