یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے
جو فقیر تھا وہ امیر ہے جو امیر تھا وہ فقیر ہے
۔
مری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سرخ لکیر ہے
یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے
۔
نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج بھی سر دشت جاں
وہی ہاتھ ہے وہی مشک ہے وہی پیاس ہے وہی تیر ہے
۔
کسی لب پہ حرف ستم تو ہو کوئی دکھ سپرد قلم تو ہو
یہ بجا کہ شہر ملال میں کوئی فیضؔ ہے کوئی میرؔ ہے
۔
میرے ہم سخن مرے ہم زباں بڑے خوش گماں بڑے خوش بیاں
کوئی خواہشوں کا غلام ہے کوئی زلف و رخ کا اسیر ہے
۔
یہ عجیب رخ ہے حیات کا نہیں منزلوں سے جو آشنا
وہی راستوں کا چراغ ہے وہی قافلے کا امیر ہے
منظر ایوبی