MOJ E SUKHAN

کہیں رستہ بنانا اور کہیں دیوار ہونا

کہیں رستہ بنانا اور کہیں دیوار ہونا
بہت مشکل عمل ہے آئینہ بردار ہونا

زمانے بھر کی سننا سوچنا اور دل جلانا
عذاب جاں بنا ہے ذہن کا بیدار ہونا

تمہارے راستے آسان کرتا جا رہا ہوں
یہی ہوتا ہے خود سے بر سر پیکار ہونا

اسی کو زندگی کہتے ہیں بس اتنا سمجھ لو
کہانی میں تمہارا بھی کوئی کردار ہونا

سفر کی انتہا سب ہم سفر کہتے ہیں اس کو
خیالوں میں ذرا سی بھی کہیں تکرار ہونا

خدا کا شکر ہے معصومیت قائم ہے اب تک
خدا کا شکر ہے آیا نہیں ہشیار ہونا

مری مشکل یہی ہے اس قدر آسان ہوں میں
بہت آسان ہوتا ہے قمر دشوار ہونا

اقبال قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم