MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل نے جب بھی ترا خیال کیا

غزل

دل نے جب بھی ترا خیال کیا
خود کو آئینۂ جمال کیا

دل کی دھڑکن میں بس گیا ایسے
سانس لینا مرا محال کیا

میں نے سچ بولنے کی جرأت کی
سچ سنا آپ نے کمال کیا

تیری یادیں مری محافظ ہیں
تیری یادوں کو میں نے ڈھال کیا

تیری چاہت کے لمحے لمحے کو
دل نے مانند ماہ و سال کیا

وقت نے کب اسے رکھا زندہ
کام جس نے جو بے مآل کیا

تیری قربت میں بیتے لمحوں نے
مجھ کو بھی صاحب جمال کیا

آئنے نے ترا قصیدہ کہا
آئنہ جب کبھی مثال کیا

ایک ہی تھا جواب حسن کے پاس
حسن سے جس نے بھی سوال کیا

زندگی کا ہے سانحہ رومیؔ
دل کی تنہائی نے نڈھال کیا

رومانہ رومی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم