MOJ E SUKHAN

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ

غزل

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ
چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ

سفر کے شوق میں اتنے عذاب جھیلے ہیں
کہ اب تو قصد سفر ہی سے ڈر گئے ہیں لوگ

دھواں دھواں نظر آتی ہیں شہر کی گلیاں
سنا ہے آج سر شام گھر گئے ہیں لوگ

جہاں سے نکلے ہیں رستے مسافروں کے لئے
مکان ایسے بھی تعمیر کر گئے ہیں لوگ

کبھی کبھی تو جدائی کی لذتیں دے کر
رفاقتوں میں نیا رنگ بھر گئے ہیں لوگ

ملال ترک تعلق نہ جانے کیا ہوتا
خیال ترک تعلق سے مر گئے ہیں لوگ

غرور تند ہواؤں کا یوں بھی توڑا ہے
چراغ ہاتھ پہ رکھ کر گزر گئے ہیں لوگ

کوئی جواب نہیں فکر کی بلندی کا
زمیں پہ رہ کے بھی افلاک پر گئے ہیں لوگ

قریب تھے تو فقط واسطہ تھا آنکھوں سے
جدا ہوئے ہیں تو دل میں اتر گئے ہیں لوگ

وہ گیسوؤں کی گھٹا ہو کہ دار کا سایہ
جہاں بھی چھاؤں ملی ہے ٹھہر گئے ہیں لوگ

یہ اور بات کہ گھر بجھ گئے ہیں اے شاعرؔ
مگر وطن میں چراغاں تو کر گئے ہیں لوگ

شاعر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم