MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی کو سبق سکھا دوں گا

زندگی کو سبق سکھا دوں گا
زندہ رہ کر اسے دکھا دوں گا

وہ مری چشم تر کو ترستے گا
ضبط کا سلسلہ بڑھا دوں گا

زیب دیتا ہے آسماں کو غرور
خاک زادہ؛ میں اس کو کیا دوں گا

بے اجازت جو خواب آئے تو
نیند سے خود کو میں جگا دوں گا

اپنی یادیں تو سونپ دوں گا اسے
اس کی یادیں اسے تھما دوں گا

جب بھی تیرہ شبی ستائے گی
ایک تصویر میں جلا دوں گا

بات تازہ رہے مری انصر
اس قدر بات کو ہوا دوں گا

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم