MOJ E SUKHAN

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

Yooun dil e deewana ko aksar saza deta hoon main

غزل

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں
اپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میں

اپنے دل کے خون سے وہ گل کھلا دیتا ہوں میں
ریگزاروں کو گلستاں کی ادا دیتا ہوں میں

ایسی منزل پر مجھے پہنچا دیا ہے عشق نے
میرا جو قاتل ہے اس کو بھی دعا دیتا ہوں میں

کیوں کسی کا نام لے کر عشق کو رسوا کروں
اپنے دل کی آگ کو خود ہی ہوا دیتا ہوں میں

ذکر یوں کرتا ہوں اپنے غم کا اپنے درد کا
ہوش والوں کو بھی دیوانہ بنا دیتا ہوں میں

کیا گزرتی ہے مرے دل پر خدارا کچھ نہ پوچھ
دشمنوں کو جب تلک گھر کا پتا دیتا ہوں میں

اپنی ہی آواز خود لگتی ہے مجھ کو اجنبی
جب اکیلے میں کبھی تجھ کو صدا دیتا ہوں میں

نشتر یاد غم جاناں سے قیصرؔ ان دنوں
زخم جو سوتے ہیں ان کو پھر جگا دیتا ہوں میں

قیصر صدیقی

Qaiser Siddiqui

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم