MOJ E SUKHAN

ترا ہی جلوہ ہے اب میرے روبرو مولا

ترا ہی جلوہ ہے اب میرے روبرو مولا
مرے چہار طرف ایک تو ہی تو مولا

ہر ایک ذرے میں موجود تیری قدرت ہے
ہر ایک ذرے میں پاٸی ہے تیری بو مولا

یہ تیری بزم بھی ہے اور ایک معبد بھی
تر ا ہی ذکر ہے محفل میں چارسو مولا

وہ شے جو دنیا میں موجود ہے بلا تفریق
ترے ہی نام سے پاتی ہے وہ نمو مولا

تو شاہ رگ سے بھی میرے قریب ہے پھر بھی
تری تلاش ہے , تیری ہی جستجو مولا

یہ مسٸلوں کے پلندے جو ہیں , انہیں پل میں
جو حل کرے گا , فقط وہ ہے ایک تو مولا

یہ تیرے ذکر سے بہتی رہے قیامت تک
نہ خشک ہو مری آنکھوں کی آبجو مولا

مدیحہ شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم