MOJ E SUKHAN

یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں

غزل

یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں
کہ جھومتا چلا جاتا ہے کیف ہجر میں دل

جمیل چہرے پہ آنکھوں کے نرم رو حلقے
افق پہ ہالۂ مہتاب کو تراشتے ہیں

ہماری نیند کے ٹوٹے ہوئے شبستاں میں
تمہارے ہونٹ کسی خواب کو تراشتے ہیں

یہ رات ہے یا اداسی بھری خلاؤں میں
بکھیر دی ہے کسی نے مرے وجود کی خاک

کہیں پہ راکھ چمکتی ہے عہد و پیماں کی
کہیں پہ نم ہوئی جاتی ہے ہست و بود کی خاک

یہ تم یہ رات یہ جادو یہ چاند کا نغمہ
یہ تم یہ منظر مہتاب دیکھتی ہوئی میں

یہ تم یہ وقت تمہارے حضور جھکتا ہوا
کہیں نہیں ہوں مگر دور تک کہیں نہیں میں

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم