MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم

غزل

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم
طوفان ہے پہاڑ کوں ڈالی اکھاڑ چشم

ندی کنار روکھ کا ہو ہے نہ باس راست
رو کرے بہائے اشک سیں مژگاں کے جھاڑ چشم

عاشق کا جان کیونکے بچے گا کہ آج دل
خوں ہو تری نگاہ سیں نکسے ہے پھاڑ چشم

وہ خوش نگاہ دل میں لگا کے گیا ہے آگ
آنجھو ہوئے ہیں دانۂ بریان بھاڑ چشم

تجھ تیغ ابرواں کے مقابل ہوئی تھی آج
دل چاک ہو رہا ہے ہمارا دراڑ چشم

یکروؔ کا کچھ گناہ نہیں سرو قد جان
چھٹ اس کہ دیکھتا ہے تری تاڑ تاڑ چشم

عبد الوہاب یکرو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم