MOJ E SUKHAN

اب کے یوں اس کو صدا دی جائے

اب کے یوں اس کو صدا دی جائے
کوئی دیوار گرا دی جائے

اب اندھیرا بھی ہے سناٹا بھی
شمعِ آواز جلا دی جائے

گھر کی سہمی ہوئی دیواروں پر
کوئی تصویر بنا دی جائے

جس کو دیکھا بھی نہ ہو جی بھر کے
کیسے وہ شکل بھلا دی جائے

اتنا تنہا ہوں کہ جی چاہتا ہے
آسمانوں کو صدا دی جائے

تجھ کو بھولیں نہ تجھے یاد کریں
یوں بھی کچھ عمر گنوا دی جائے

نذیر قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم