MOJ E SUKHAN

وہ نظر بد گماں سی لگتی ہے

غزل

وہ نظر بد گماں سی لگتی ہے
زندگی رائیگاں سی لگتی ہے

بے یقینی سی بے یقینی ہے
ہر حقیقت گماں سی لگتی ہے

لب کو زحمت ہنسی کی کیا دیجے
جب ہنسی بھی فغاں سی لگتی ہے

شہر دل میں ہے کیسا سناٹا
خامشی بھی بیاں سی لگتی ہے

خوگر تیرگی ہوں جب آنکھیں
روشنی بھی دھواں سی لگتی ہے

کیسے گزرے گی زندگی ہاتفؔ
ہر گھڑی امتحاں سی لگتی ہے

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم