MOJ E SUKHAN

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی
ہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی

میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاش
سینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی

اٹھے نہا کے شعلوں میں اپنے تو یہ کھلا
سارے جہاں میں پھیلی ہوئی تیری باس تھی

کیسے کہوں کہ میں نے کہاں کا سفر کیا
آکاش بے چراغ زمیں بے لباس تھی

اب دھول میں اٹی ہوئی راہوں پہ ہے سفر
وہ دن گئے کہ پاؤں تلے نرم گھاس تھی

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم