غزل
رونے کے ساتھ ساتھ رلانے کا وقت ہے
بچھڑے ہووں کا سوگ منانے کا وقت ہے
شب بھرمیں چپ رہاہوں اندھیروں کےخوف سے
اب دن ہے اور خواب سنانے کا وقت ہے
چہروں پہ بن رہی ہے لگاتار بے بسی
اے کوزہ گر یہ چاک گھمانے کا وقت ہے
سایہ جدھر بھی دیکھا دکھائی نہیں دیا
سو اِس لیے یہ پیڑ لگانےکا وقت ہے
معدوم ہو رہی ہیں پرانی روایتیں
بچوں کو اپنے پاس بٹھانےکا وقت ہے
اسد رضا سحر