MOJ E SUKHAN
No Record Found
یہ شغل شعر تو آدھی صدی کا قصہ ھےترا خیال تو اشعار سے بھی پہلے تھا
کسی نے پوچھا تو ، تو غم نہ کر میں کہہ دوں گابدن پہ زخم ترے وار سے بھی پہلے تھا
محمود غزنی
نقلِ وطن کے بعد انہی حالات میں رہے
ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے
تو اپنے حُسن کو اے مہہ لِقا سنبھال کے رکھ
جب سے جنوں کو قائم بالذات کر لیا ہے
گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر
ہے مرہم کے ہوتے ہوے تن دریدہ
صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپا
موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے