MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا

موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا
خشک دریاؤں ندی نالوں کو پانی دے جا

کچھ تو سمجھا دے طلسمات شب و روز مجھے
ان حصاروں میں کوئی باب معانی دے جا

ظلمت حبس دل و جاں میں جلا شمع ہوا
تو کہیں ہے تو مجھے اپنی نشانی دے جا

میں سبک سیر سہی مجھ کو تو پر خس نہ بنا
ان ہواؤں میں مجھے تھوڑی گرانی دے جا

نامکمل ہے کوئی باب چمن جن کے بغیر
قصۂ گل کے وہ اوراق خزانی دے جا

کب سے بے آب ہیں آئینے مری آنکھوں کے
ان نئے چہروں میں کچھ شکلیں پرانی دے جا

آگ برساتے ہوئے دن کی حدیں باندھ کبھی
گرم شاموں میں کوئی شام سہانی دے جا

ہر گھڑی دل سے گریزاں ہیں امیدیں شاہیںؔ
ان مکینوں کو ذرا شوق مکانی دے جا

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم