MOJ E SUKHAN
No Record Found
کسی کی زلف کا غزنی اسیر میں بھی ہوںسو پاسدار روایات میر میں بھی ہوں
مجھے بھی دیکھ تو اوروں کو جیسے دیکھتا ھےتری گلی میں رہائش پذیر میں بھی ہوں
محمود غزنی
قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں
کرے دریا نہ پُل مسمار میرے
تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے
رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے
غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے
آوارہ ہواؤں کا پتہ مانگ رہا ہے
دلبر بے باک سوں خوب نہیں بولنا
شعر کی شکل میں الہامِ غضنفر آیا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے