MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے

غزل

غموں سے ہجر کے کچھ ایسے بد حواس رہے
وہ مل گئے بھی تو ہم دیر تک اداس رہے

یہ انجمن تو ستم کو ستم ہی سمجھے گی
ترا کرم کہ ہمیں ہم ادا شناس رہے

وہ چاک دامنئ گل کا راز کیا جانیں
بھری بہار میں جو خار بے لباس رہے

جنوں ہے ایک جسارت جنوں ہے ایک ترنگ
خرد نہیں کہ اسیر امید و یاس رہے

نہ ٹوٹنا تھا نہ ٹوٹا غرور گمراہی
پہنچ گئے بھی تو منزل کے آس پاس رہے

نگاہ تک تو اٹھا دی کسی نے جام کے ساتھ
جو پھر بھی رہتی ہے خاورؔ تو اپنی پیاس رہے

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم