MOJ E SUKHAN

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں
ہوں اشک اشک مگر اپنے ہی وجود میں ہوں

کسی نے نغموں میں تحلیل کر دیا ہے مجھے
نہ گنگناؤ کہ میں پردۂ سرود میں ہوں

تو اپنی ذات سے مجھ کو الگ نہ جان کہ میں
ترے جمال کی نکہت کے تار و پود میں ہوں

ہزار رنگ میں دیکھا ہے مجھ کو دنیا نے
ازل سے تا بہ ابد نشۂ ورود میں ہوں

خود اپنی ذات کا عرفاں نہ ہو سکا مجھ کو
ابھی میں کشمکش دام ہست و بود میں ہوں

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم