MOJ E SUKHAN

پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں

غزل

پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں
کیوں ان جلتی آنکھوں میں اب رنگ برنگے خواب نہیں

اک مدت سے کس ناطق کی نوک زباں پر اٹکا ہوں
میں اک لفظ ہوں گویا وہ بھی معنی سے سیراب نہیں

آنکھیں ہیں یا خار مغیلاں چہرہ ہے یا صحرا ہے
لفظ بہت نایاب ہیں پیارے درد مگر نایاب نہیں

میری بلا سے جھکنے والوں میں معبود بھی شامل ہوں
لیکن میرے سجدوں میں بت خانے کے آداب نہیں

فطرت کا پیغمبر کیا جانے سمجھوتے کی باتیں
دریا مڑ سکتے ہیں لیکن دریا کے سیلاب نہیں

آنکھیں اور چنیں گی کب تک آخر منظر کی کرچیں
مجھ میں تو اب جیسے اپنی نظروں کی بھی تاب نہیں

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم