MOJ E SUKHAN

دل کا عالم عاشقی میں کیا کہوں کیا ہو گیا

دل کا عالم عاشقی میں کیا کہوں کیا ہو گیا
رنج سہتے سہتے پتھر کا کلیجہ ہو گیا

چین ایک دن بھی نہ پایا میں فراق یار میں
وحشت دل کم ہوئی تھی کچھ کہ سودا ہو گیا

گر پڑے غش کھا کے عاشق اور مردے جی اٹھے
دو قدم جب وہ چلے یہ حشر برپا ہو گیا

ہو گئے ہم صورت دیوار اس کو دیکھ کر
کوچۂ جاناں میں کل اپنا یہ نقشہ ہو گیا

حال سن کے یار کا آئی تن بے جاں میں جاں
نامہ بر میرے لئے گویا مسیحا ہو گیا

سیر کرنے بام پر آیا جو وہ پردہ نشیں
سارا عالم دیکھ کر محو تماشہ ہو گیا

ذکر اپنا آج کل سنتے ہیں اوگھٹؔ ہر کہیں
اپنی بربادی کا بھی مشہور قصہ ہو گیا

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم