MOJ E SUKHAN

دوستوں دشمنوں نے لوٹ لیا

دوستوں دشمنوں نے لوٹ لیا
مجھ کو یکساں سبھوں نے لوٹ لیا

آپ کیوں منہ پھلاکے بیٹھے ہیں
یار کن قربتوں نے لوٹ لیا

حسن کے پاسبان بھی ہیں وہی
عشق کو جن ٹھگوں نے لوٹ لیا

وصل کی ساعتیں ترس کھائیں
ہجر کی مدّتوں نے لوٹ لیا

کچھ تھے جلوے ترے تباہی پر
کچھ مجھے خواہشوں نے لوٹ لیا

بے خبر ہے ترا سکون و قرار
مجھ کو کن مشکلوں نے لوٹ لیا

پھر کسی زلف کی طلب نہ رہی
یوں تمہاری لٹوں نے لوٹ لیا

ہائے فریادِ دلبری میری
تیرے بڑھتے گلوں نے لوٹ لیا

اس کے کوچے میں زچ ہوئے منظور
آہ کو قہقہوں نے لوٹ لیا

احمد منظور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم