MOJ E SUKHAN

زندگی کرنے کا اک بھرپور ڈھب دے گا مجھے

زندگی کرنے کا اک بھرپور ڈھب دے گا مجھے
درس تجدید محبت بھی وہ اب دے گا مجھے

مجھ سے میری ابتدا ہے مجھ سے میری انتہا
فائدہ کیا؟ شہرہ نام و نسب دے گا مجھے

منتظر ہوں میں کہ یہ ہنگامئہ دشتِ خیال
ارتقاۓ ذات کا عرفان کب دے گا مجھے

میں کسی کے سامنے پھیلاؤں کیوں دست طلب
میرے حصے کا نوالہ میرا رب دے گا مجھے

ذہن بخشے گا اکائی انتشار ذات کو
گرمئی انفاس رفعت وہ عجب دے گا مجھے

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم