MOJ E SUKHAN

یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں

غزل

یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں
پھول پتھر نہیں ہوتے جاناں

کیوں مرے دل سے کہیں جاتے ہو
گھر سے بے گھر نہیں ہوتے جاناں

وصل کی شب جو کرم تم نے کیے
کیوں مکرر نہیں ہوتے جاناں

ہم تمہیں بت کی طرح پوجتے ہیں
پھر بھی کافر نہیں ہوتے جاناں

غم کے دیپک نہیں جلتے جب تک
دل منور نہیں ہوتے جاناں

ہم تو رہتے ہیں تمہاری حد میں
حد سے باہر نہیں ہوتے جاناں

ایک جیسے ہیں خوشی کے لمحے
دکھ برابر نہیں ہوتے جاناں

اس قدر خوں نہ بہانا دل کا
دل سمندر نہیں ہوتے جاناں

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم