MOJ E SUKHAN

ہو گئی عقدہ کشائی ترے دیوانے سے

ہو گئی عقدہ کشائی ترے دیوانے سے
راز کونین کھلے عشق کے افسانے سے

ہو گئی عشق مجازی سے حقیقت کی نمود
راہ کعبے کی نظر آئی ہے بت خانے سے

قطرے قطرے کا مجھے دینا ہے محشر میں حساب
مے چھلک جائے نہ ساقی کہیں پیمانے سے

جانے کتنے دل مشتاق لیے ہے ارماں
کاش شب ٹھہر بھی جائے ترے آ جانے سے

ساتھ لاؤں گا مبینؔ اپنے بہاروں کا ہجوم
لوٹ کر آؤں گا میں جب کبھی ویرانے سے

سید مبین علوی خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم