غزل
سانپ بھی بین بھی مداری بھی
ہائے کیا بات ہے تمہاری بھی
کیسے کرتے ہو یار مائک پر
شاعری بھی دکان داری بھی
ہم ولی تو نہیں خدا سے مگر
جان پہچان ہے ہماری بھی
صرف دل کا معاملہ ہی نہیں
عشق ہے ایک ذمہ داری بھی
ہار کر پھول تیری خوشبو سے
ڈھونڈ لیتے ہیں رشتے داری بھی
وہ جو پچھلی قطار میں خوش تھا
آ گئی آج اس کی باری بھی
ہم کبھی ایک ساتھ کرتے تھے
خاکساری بھی شہ سواری بھی
آپ خاموشیاں بھی سنتے ہیں
آہ سن لیجیے ہماری بھی
فہمی بدایونی