MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مرا

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مرا
گزر ہے تیرے خرابے سے بار بار مرا

خزاں تو کیا نہیں جس کی بہار کو بھی خبر
اک ایسے باغ کے اندر ہے برگ و بار مرا

ہے دل کے نغمہ و نالہ سے اب گریز مجھے
ملا ہوا ہے کسی اور لے سے تار مرا

میں خوش ہوں نان و نمک پر تو اس کی داد نہ دے
کہ بھیک مانگتا پھرتا ہے شہریار مرا

ترے غرور کی عصمت دری پہ نادم ہوں
ترے لہو سے بھی دامن ہے داغ دار مرا

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم