MOJ E SUKHAN

رات آنکھوں میں کاٹنے والو شاد رہو آباد رہو

غزل

رات آنکھوں میں کاٹنے والو شاد رہو آباد رہو
بار ہجر اٹھانے والو شاد رہو آباد رہو

کچی عمر میں کل کے دکھوں سے آج الجھنا ٹھیک نہیں
پہلا ساون بھیگنے والو شاد رہو آباد رہو

اب آئے ہو سارے دیئے جب اک اک کر کے بجھ بھی گئے
لیکن لوٹ کے آنے والو شاد رہو آباد رہو

خانہ بدوشی ایک ہنر ہے رفتہ رفتہ آئے گا
رنج مسافت کھینچنے والو شاد رہو آباد رہو

ایک دریچے سے دو آنکھیں روز صدائیں دیتی ہیں
رات گئے گھر لوٹنے والو شاد رہو آباد رہو

ہجر زدوں پر خود نہیں کھلتا کس عالم میں رہتے ہیں
حال ہمارا پوچھنے والو شاد رہو آباد رہو

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم