MOJ E SUKHAN

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

غزل

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں
میں اپنے وجود کی سزا ہوں

زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں
خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوں

اس دشت طلب میں ایک میں بھی
صدیوں کی تھکی ہوئی صدا ہوں

اس شہر طرب کے شور و غل میں
تصویر سکوت بن گیا ہوں

بے نام و نمود زندگی کا
اک بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں

شاید نہ ملے مجھے رہائی
یادوں کا اسیر ہو گیا ہوں

اک ایسا چمن ہے جس کی خوشبو
سانسوں میں بسائے پھر رہا ہوں

اک ایسی گلی ہے جس کی خاطر
درماندہ کو بہ کو رہا ہوں

اک ایسی زمیں ہے جس کو چھو کر
تقدیس حرم سے آشنا ہوں

اے مجھ کو فریب دینے والے
میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

میں تیرے قریب آتے آتے
کچھ اور بھی دور ہو گیا ہوں

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم