MOJ E SUKHAN

گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا

غزل

گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا
پھولوں کا رنگ لال تجھے دیکھ کر ہوا

مدت کے بعد آج ملے ہیں تو جان من
دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا

آؤ ہم آج چاند کا قرضہ اتار دیں
تاروں کو یہ خیال تجھے دیکھ کر ہوا

خوشبو سے کس زبان میں باتیں کریں گے لوگ
محفل میں یہ سوال تجھے دیکھ کر ہوا

اشکوں سے جب لکھیں گے غزل تب سنائیں گے
اس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہوا

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم