MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا

غزل

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا
پیار جو کرنا تھا اس کا اظہار بھی کرنا تھا

اول اول کشتیٔ جاں غرقاب بھی ہونا تھی
آخر آخر سانسوں کو پتوار بھی کرنا تھا

سب کچھ پانا بھی تھا ہم کو سب کچھ کھونا بھی
جیت بھی جانا تھا پھر جیت کو ہار بھی کرنا تھا

صحراؤں کی خاک اڑاتے اندھے رستوں سے
دریا تک بھی آنا دریا پار بھی کرنا تھا

اک اجڑا ویران سا منظر دیکھ کے باہر کا
اپنے ہاتھوں ہر در کو دیوار بھی کرنا تھا

نرم ملائم چہرے گہری نیلی آنکھوں والے
تجھ جیسے بے مہر کو اپنا یار بھی کرنا تھا

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم