MOJ E SUKHAN

یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے

غزل

یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے
خوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہے

تیری طلب میں پتھر کھانا کتنا اچھا لگتا ہے
خود بھی رونا سب کو رلانا کتنا اچھا لگتا ہے

ہم کو خبر ہے شہر میں اس کے سنگ ملامت ملتے ہیں
پھر بھی اس کے شہر میں جانا کتنا اچھا لگتا ہے

جرم محبت کی تاریخیں ثبت ہیں جن کے دامن پر
ان لمحوں کو دل میں بسانا کتنا اچھا لگتا ہے

حال سے اپنے بیگانے ہیں مستقبل کی فکر نہیں
لوگو یہ بچپن کا زمانا کتنا اچھا لگتا ہے

آج کا یہ اسلوب غزل بھی قدر کے قابل ہے لیکن
میرؔ کا وہ انداز پرانا کتنا اچھا لگتا ہے

قدر شناس شعر و سخن ہوتے ہیں جہاں پر اے تابشؔ
اس محفل میں شعر سنانا کتنا اچھا لگتا ہے

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم