MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایک منزل ہے کٹھن اس کو بھی اب پانا ہے

ایک منزل ہے کٹھن اس کو بھی اب پانا ہے
اب مجھے دور بہت دور چلے جانا ہے

کئی صحرا کئی جنگل کئی رستے دیکھے
اب سمندر کی کسی تہہ میں اتر جانا ہے

آسماں کتنا وسیع ہے کبھی سوچا ہی نہیں
ہم زمیں زادوں نے بس خاک کو پہچانا ہے

چند سکوں کے لیے پھرتے ہیں مارے مارے
شام ہوتی ہے تو پھر سب کو ہی گھر جانا ہے

کس طرح سرد کروں دل میں بھڑکتے شعلے
اب اسی آگ میں آخر مجھے جل جانا ہے

کیسے تقدیر سنوارے گی مقدر اس کا
جو ہے تقدیر میں لکھا وہ اسے پانا ہے

نیلما ناہید درانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم