ایک منزل ہے کٹھن اس کو بھی اب پانا ہے
اب مجھے دور بہت دور چلے جانا ہے
کئی صحرا کئی جنگل کئی رستے دیکھے
اب سمندر کی کسی تہہ میں اتر جانا ہے
آسماں کتنا وسیع ہے کبھی سوچا ہی نہیں
ہم زمیں زادوں نے بس خاک کو پہچانا ہے
چند سکوں کے لیے پھرتے ہیں مارے مارے
شام ہوتی ہے تو پھر سب کو ہی گھر جانا ہے
کس طرح سرد کروں دل میں بھڑکتے شعلے
اب اسی آگ میں آخر مجھے جل جانا ہے
کیسے تقدیر سنوارے گی مقدر اس کا
جو ہے تقدیر میں لکھا وہ اسے پانا ہے
نیلما ناہید درانی