MOJ E SUKHAN

گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا

غزل

گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا
سوچوں کے پھول پھول کو پامال کر گیا

سورج نے اپنی آنچ کو واپس بلا لیا
لیکن مرے لہو کو وہ سیال کر گیا

کیا فیصلہ دیا ہے عدالت نے چھوڑیئے
مجرم تو اپنے جرم کا اقبال کر گیا

جو لوگ دور تھے وہ بہت دور ہو گئے
یہ تازہ حادثہ بھی گیا سال کر گیا

سہمے ہوئے ہیں چاروں طرف روشنی کے عکس
اک ہاتھ آ کے سرخ کئی گال کر گیا

میں دو قدم چلا تھا کہ ڈھلوان آ گئی
افضلؔ سفر تو میرا برا حال کر گیا

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم