MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے

غزل

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے
پھر خالی ہاتھ دہر سے جانا پڑا مجھے

سب لوگ تیرے شہر کے ماضی پرست تھے
مشکل سے حال میں انہیں لانا پڑا مجھے

پہلے بنائے آنکھ میں خوابوں کے مقبرے
پھر حسرتوں کو دل میں دبانا پڑا مجھے

مجھ کو تو خیر خانہ بدوشی ہی راس تھی
تیرے لیے مکان بنانا پڑا مجھے

کچھ اور جب رہا نہ ذریعہ معاش کا
کاندھوں پہ بار عشق اٹھانا پڑا مجھے

دنیا یہ گھومتی رہے پرکار کی طرح
اک دائرہ زمیں پہ بنانا پڑا مجھے

اک دن یہ جی میں آئی وہ آنکھیں ہی پھوڑ دوں
جن کے لیے عذاب اٹھانا پڑا مجھے

اپنے معاملے میں ہی شدت پسند تھی
اپنے لیے ہی جان سے جانا پڑا مجھے

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم