غزل
بادلوں میں چھپا چاند آج شب نکلا
آسماں پر نظارہ کچھ عجب نکلا
روشنی چھا گئی تیرے چمکنے سے
تُو فلک پر ستارہ بن کے اب نکلا
کھوگیا پھر کہاں تُو آسمانوں میں
ڈھونڈنے پھر تجھے اب کوئی کب نکلا
خامشی اور سنّاٹے بسے ہر سُو
کھونا پانا تجھے چکّر عجب نکلا
تیری خاطر کٹا جو وقت کانٹوں پر
پھر تری راہ تکنا بے سبب نکلا
وحشتِ زندگی جو کم نہ ہو پائی
تجھ سے مل کر بھی دل کا میل کب نکلا
مل نہ پائی ثمرؔ اُس سے دوبارہ تُو
اب کے یوں بے طلب دستِ طلب نکلا
ثمرین ندیم ثمر