MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گردش دشت تمنا سے ملا کچھ بھی نہیں

غزل

گردش دشت تمنا سے ملا کچھ بھی نہیں
غلغلہ ہونے کا سنتے تھے ہوا کچھ بھی نہیں

ہر حقیقت واہمہ ہے واہمہ کچھ بھی نہیں
دیکھنے میں سب خدا ہے اور خدا کچھ بھی نہیں

جذبۂ تعمیر میں اک خواہش تخریب تھی
کچھ بنانا تھا اسے لیکن بنا کچھ بھی نہیں

جب سے چیزوں کی حقیقت سے ہوا ہوں آشنا
دیکھتا ہوں پر دکھاتا آئنہ کچھ بھی نہیں

لوح اک محفوظ ہے اور اس لیے محفوظ ہے
اس نے اپنے ہاتھ سے اس پر لکھا کچھ بھی نہیں

عکس حیرت گاہ میں بکھرے ہوئے ہیں ہر طرف
جبکہ حیرت گاہ میں میرے سوا کچھ بھی نہیں

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم