MOJ E SUKHAN

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

۔

کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو

وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں

۔

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر

وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

۔

وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہوا میں جھولتے تھے

وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

۔

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی

سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

۔

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں

عبید اللہ علیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم