MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

غزل

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے
بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے

بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر
گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے

خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے
تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے

پہنچوں گا کشاکش میں جہاں تم نے بلایا
تم حشر کے میداں سے صدا کیوں نہیں دیتے

محفل میں اگر رونق محفل ہے کوئی اور
یہ بات بھی محفل کو بتا کیوں نہیں دیتے

اک بوند سی لرزاں ہے سر چشم تمنا
نایاب نہیں آب گرا کیوں نہیں دیتے

ناکردہ گناہوں کی سزا موت ملی ہے
پھر کردہ گناہوں کی سزا کیوں نہیں دیتے

زخموں کو مرے دل پہ اگر دیکھ لیا ہے
دامن سے وفاؤں کی ہوا کیوں نہیں دیتے

دیکھا تھا کبھی ہم نے محبت کا جنازہ
باقی ہے اگر کچھ تو دکھا کیوں نہیں دیتے

ہر لمحہ ہمارا ہی فسانہ ہے زباں پر
ہم کچھ بھی نہیں ہیں تو بھلا کیوں نہیں دیتے

کر لیں گے ہر اک منزل دشوار کو سر ہم
اک جام محبت کا پلا کیوں نہیں دیتے

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم