MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اردو معلیٰ  نظم

اردو معلیٰ  نظم   اپنے منہ سے کہہ رہی ہے صاف اردو کی زباں مولد و ماویٰ ہے میرا کشور ہندوستاں اس کے افعال و روابط دے رہے ہیں خود نشاں کس طرح پیدا ہوئی کیوں کر بڑھی پل کر یہاں روز افزوں حسن کا ہر دور اک سیارہ ہے ہے دبستاں لکھنؤ دلی اگر […]

اردو معلیٰ  نظم Read More »

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

غزل غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سنکے مدد اتنی اے بال و پرواز دینا نہ خاموش رہنا مرے ہم سفیرو جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو ہر انجام میں رنگِ

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا Read More »

تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی

غزل تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی چھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کی عرق عرق ہیں جو گرمی سے روز محشر کی پناہ ڈھونڈتے ہیں میرے دامن تر کی ہوا گمان اسی شوخ سست پیماں کا اگر ہوا سے بھی زنجیر ہل گئی در کی اسی طرف ترے

تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی Read More »

طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیں

غزل طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیں دل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سر طور نہیں دل سے نزدیک ہیں آنکھوں سے بھی کچھ دور نہیں مگر اس پہ بھی ملاقات انہیں منظور نہیں ہم کو پروانہ و بلبل کی رقابت سے غرض گل میں وہ رنگ نہیں شمع میں وہ نور

طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیں Read More »

کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیں

غزل کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیں بہ حسرت سوئے چرخ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیں نظر حسن آشنا ٹھہری وہ خلوت ہو کہ جلوت ہو جب آنکھیں بند کیں تصویر جاناں دیکھ لیتے ہیں شب وعدہ ہمیشہ سے یہی معمول ہے اپنا سحر تک راہ شوخ سست پیماں دیکھ لیتے ہیں

کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیں Read More »

درد آغازِ محبت کا اب انجام نہیں

غزل درد آغازِ محبت کا اب انجام نہیں زندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیں کیجیے غور تو ہر لذت دنیا ہے فریب کون دانہ ہے یہاں پر جو تہ دام نہیں ہے تنزل کہ زمانے نے ترقی کی ہے کفر وہ کفر اب اسلام وہ اسلام نہیں کون آزاد نہیں حلقہ بگوشوں میں

درد آغازِ محبت کا اب انجام نہیں Read More »

جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دو

غزل جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دو ٹھہرو ٹھہرو دل تو ٹھہرے مجھ کو ہوش میں آنے دو پانو نکالو خلوت سے آئے جو قیامت آنے دو سیارے سر آپس میں ٹکرائیں اگر ٹکرانے دو بادل گرجا بجلی چمکی روئی شبنم پھول ہنسے مرغ سحر کو ہجر کی شب کے افسانے

جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دو Read More »

پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے

غزل پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے اس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو نا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے کشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحل مراد دھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے وہ طول عمر جس میں نہ ہو لطف

پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے Read More »

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے

غزل وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے شب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے الٰہی خیر ہو الجھن پہ الجھن بڑھتی جاتی ہے نہ میرا دم نہ ان کے گیسوؤں کا خم نکلتا ہے قیامت ہی نہ ہو جائے جو پردے سے نکل آؤ تمہارے منہ چھپانے میں

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے Read More »

نظم پہاڑی کی آخری شام 

پہاڑی کی آخری شام ایشیا کی اس ویران پہاڑی پر موت ایک خانہ بدوش لڑکی کی طرح گھوم رہی ہے میری روشنی اور انار کے درختوں میں قزاقوں کے چاقو چمکتے ہیں اور سر پر وہ چاند ہے جو اس پہاڑی کا پہلا پیغمبر ہے اس پہاڑی پر فاطمہ رہتی ہے اس کے کپڑوں میں

نظم پہاڑی کی آخری شام  Read More »