MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نظم ملاقات

ملاقات بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں مجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیں جادو کیسے کیسے جادو چلتے ہیں گلزاروں سے گیسو کیسے کیسے گیسو اڑتے ہیں رخساروں سے شمعیں کیسی کیسی شمعیں جلتی ہیں دیواروں پر پردے کیسے کیسے پردے گرتے ہیں نظاروں پر نیند کے ماتے […]

نظم ملاقات Read More »

میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے

غزل میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے وہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کے نہ یہ لالہ زار اپنے نہ یہ رہ گزار اپنی وہی گھر زمیں کے نیچے وہی خواب آسماں کے یہ پیالہ ہے کہ دل ہے یہ شراب ہے کہ جاں ہے یہ درخت ہیں کہ سائے کسی

میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے Read More »

شیخ کے گھر کے سامنے آب حرام ڈال دوں

غزل شیخ کے گھر کے سامنے آب حرام ڈال دوں جام و سبو کی آگ میں اپنا کلام ڈال دوں شہر کے اس ہجوم میں جینے کا حوصلہ رکھوں اپنے جنوں کی آگ میں شہر کی شام ڈال دوں صبح سے کچھ عجیب غم دشت میں ہیں ہمارے ساتھ ان کے سروں پہ میں ذرا

شیخ کے گھر کے سامنے آب حرام ڈال دوں Read More »

دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں

غزل دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں نرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریں موسم ابر و باد سے پوچھیں لذت سوزاں کا مفہوم موجۂ خوں سے دامن گل پر حرف جنوں تحریر کریں آمد گل کا ویرانی بھی دیکھ رہی ہے کیا کیا خواب ویرانی کے خواب کو

دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں Read More »

ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں

غزل ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں روئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیں کتنی افسردہ ہے یہ شام بہار جس کو ہم تازہ ہوا کہتے ہیں اپنی آنکھوں میں نہ جانے کب کا خواب ہے جس کو خدا کہتے ہیں پھول میں اس کا لہو بہتا ہے چاند کو اس کی قبا کہتے ہیں

ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں Read More »

کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں

غزل کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں آسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر خوابیدہ ہیں کتنی نم ہے آنسوؤں سے یہ صنم خانے کی خاک یہ طواف گل کے لمحے کتنے آتش دیدہ ہیں یہ گلستاں ہے کہ چلتے ہیں تمناؤں کے خواب یہ ہوا ہے یا بیاباں کے قدم لرزیدہ

کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں Read More »

آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا

غزل آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا شام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرنا   ہر آنگن میں دیئے جلانا ہر آنگن میں پھول کھلانا اس بستی میں سب کچھ کرنا ہم سے محبت مت کرنا   اجنبی ملکوں اجنبی لوگوں میں آ کر معلوم ہوا

آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا Read More »

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

غزل شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا پھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھا یار عجیب یار تھا جس کے ہزار نام تھے شہر عجیب شہر تھا جس میں کوئی طبق نہ تھا ہاتھ میں سب کے جلد تھی جس کے عجیب رنگ تھے جس پہ

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا Read More »

وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا

غزل وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا مرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھا سفر میں شام ہو جاتی تو دل میں شمعیں جل اٹھتیں لہو میں پھول کھل جاتے جہاں غنچہ چٹکتا تھا کبھی میں سرو کی صورت نظر آتا تھا یاروں کو کبھی غنچے کی صورت اپنے

وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا Read More »

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

غزل آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے رات دریا آئنے میں اس طرح آیا کہ میں یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محو خواب سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے Read More »