MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا

غزل ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا یہاں کسی سے کوئی بے سبب نہیں ملتا پھر آفتاب کہاں اپنی روشنی بانٹے نئے چراغوں میں حسن طلب نہیں ملتا بتا رہی ہیں ادیبوں کے گھر کی تہذیبیں وراثتوں میں سبھی کو ادب نہیں ملتا میں جلنے لگتا ہوں تنہائیوں کے دوزخ میں […]

ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا Read More »

میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرے

غزل میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرے کہہ دو سورج سے نکلنے کا ارادہ نہ کرے اس سے بڑھ کر کوئی محتاج نہیں ہو سکتا گر کے جو شخص سنبھلنے کا ارادہ نہ کرے جو ہواؤں کے مزاجوں سے نہیں ہے واقف میرے ہم راہ وہ چلنے کا ارادہ نہ کرے گفتگو زہر

میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرے Read More »

چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہے

غزل چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہے یاد ایسے میں تری دل میں چلی آئی ہے وہ دغاباز ہے ظالم بڑا ہرجائی ہے پھر بھی یہ دل ہے کہ اس کا ہی تمنائی ہے وہ مری بزم تصور میں کچھ ایسے آئے جیسے جنت مرے آنگن میں اتر آئی ہے باغ فردوس ہے

چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہے Read More »

فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کو

غزل فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کو اتنی راس آئی مرے گھر کی چٹائی مجھ کو بات ساحل کی جو ہوتی تو سنبھل بھی جاتا اس نے منجدھار میں اوقات بتائی مجھ کو عزم پر میرے مسلط ہے جنوں منزل کا کیسے روکے گی مری آبلہ پائی مجھ کو جس نے جس

فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کو Read More »

کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے

غزل کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے اور بھی ہیں مجھے سینے سے لگانے والے ناپتے کیسے مرے ظرف کی گہرائی کو ڈبکیاں خطۂ ساحل میں لگانے والے اے ہواؤ نہ کہیں ہاتھ جلا لو تم بھی بجھ گئے میرے چراغوں کو بجھانے والے جسم مر سکتا ہے آواز نہیں مرتی ہے

کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے Read More »

اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دے

غزل اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دے عزت نفس کو خالق مرے زندہ کر دے مجھ سے دنیا کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی میرے مالک میرے احساس کو اندھا کر دے دیکھ اچھا نہیں احباب کی غیبت کرنا یہ عمل تجھ کو کسی روز نہ تنہا کر دے آ نہ جائے

اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دے Read More »

عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرح

غزل عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرح حسن اس کا بھی ہے پھولوں کی جوانی کی طرح اے مری جان وفا تیری وفاؤں کی قسم تو مجھے یاد ہے نانی کی کہانی کی طرح کیا کوئی سمجھے ترے حسن کی تہہ داری کو مجھ پہ کھلتی ہے فقط مصرع ثانی کی طرح

عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرح Read More »

بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گا

غزل بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گا زندگی بھر میں تجھے زخم جدائی دوں گا جو مجھے جیسا سمجھتا ہے سمجھنے دیجے اپنے بارے میں کہاں تک میں صفائی دوں گا میرے حصے میں بھی آیا ہے بلندی کا سفر آسماں والوں تمہیں میں بھی دکھائی دوں گا بخش دے گا وہ

بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گا Read More »

یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے

غزل یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے خود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہے ہم تو کرنا بھی نہیں چاہتے دل کا سودا اور مناسب ہمیں قیمت بھی نہیں ملتی ہے عشق وہ جرم ہے اس جرم کو کرنے والو اس کے مجرم کو ضمانت بھی نہیں ملتی ہے

یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے Read More »

شرافت چھین لیتی ہے صداقت چھین لیتی ہے

غزل شرافت چھین لیتی ہے صداقت چھین لیتی ہے قلم کاروں سے خودداری ضرورت چھین لیتی ہے ریا کاری سے بچئے یہ بہت زہریلی ناگن ہے یہ ناگن زندگی بھر کی عبادت چھین لیتی ہے زمانے میں ضروری ہے بہت تعلیم کا ہونا جہالت آدمی سے آدمیت چھین لیتی ہے بھری ہو جیب تو انساں

شرافت چھین لیتی ہے صداقت چھین لیتی ہے Read More »