ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا
غزل ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا یہاں کسی سے کوئی بے سبب نہیں ملتا پھر آفتاب کہاں اپنی روشنی بانٹے نئے چراغوں میں حسن طلب نہیں ملتا بتا رہی ہیں ادیبوں کے گھر کی تہذیبیں وراثتوں میں سبھی کو ادب نہیں ملتا میں جلنے لگتا ہوں تنہائیوں کے دوزخ میں […]
ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا Read More »