MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا

غزل جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا درد سینے میں اٹھا اور کئی بار اٹھا زندگی بوجھ نہ بن جائے تن آسانی سے اپنے رستے میں کبھی خود کوئی دیوار اٹھا صرصر وقت سے غافل تھا تو اے کبر نژاد گر گئی خاک زمیں پر تری دستار اٹھا وہم نظارہ میں ہے عافیت […]

جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا Read More »

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں

غزل وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں کبھی کماں سے کوئی تیر جا کے آیا نہیں ٹھہر گیا ہے سر مرکز فلک سورج یہ وقت وہ ہے کہ دیوار میں بھی سایا نہیں یہ بے دلیٔ مسلسل یہ رنج نا معلوم تجھے بھلا کے بھی ہم نے تجھے بھلایا نہیں اسیر

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں Read More »

نظم کسک

نظم  کسک کس شہر میں کھو گئ تمھاری ہماری لنِک ریز میں اور شبِ تنہائی رات کے پھر تین بجے شب ِ انتظار کے بستر پر بدل رہے ہیں کروٹیں اس دلہن کی مانند پہلی رات کو محاذ پر جو بھیج کر دُ لہے کو سدامنتظر رہتی ہے ہر فلا ئٹ کی واپسی پر سید

نظم کسک Read More »

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا

غزل تری آنکھ کا جب اشارہ ملا مری کشتیوں کو کنارا ملا وہ اک شخص ہم سے جُدا ہوگیا وہ اک شخص جو سب سے پیارا ملا مری روح تک وہ اُتر سا گیا مری زندگی کو سہارا ملا مری ہر خوشی اُس پہ قربان ہے خوشی یہ مجھے غم تمھارا ملا ملن کے سبھی

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا Read More »

کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا

غزل کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا میرے دریائے تمنا کا کنارا ہوتا مان رکھا نہ گیا تجھ سے مری الفت کا لے کے دل تُو نے مرے منہ پہ نہ مارا ہوتا زندگی اپنی محبت میں حسیں ہو جاتی عمر بھر کے لئے اک شخص ہمارا ہوتا میرے آنچل نے ہوا کو

کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا Read More »

بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیا

غزل بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیا نمک کو زخم کا مرہم کریں کیا نئے موسم کے خاکے ہیں نظر میں گذشتہ فصل کا ماتم کریں کیا اترتا ہی نہیں ہے اس کا جادو بتاؤ خود پہ پڑھ کر دم کریں کیا اسے ہم کس طرح دل سے نکالیں یہ دل سنتا نہیں تو

بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیا Read More »

گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتی

غزل گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتی اب تو تنہائی بھی تنہا نہیں رہنے دیتی مفلسی کتنی خطرناک ہے تم کیا جانو یہ سلامت کوئی رشتہ نہیں رہنے دیتی یہ تو اچھا ہوا سانسوں پہ نہیں بس اس کا ورنہ دنیا مجھے زندہ نہیں رہنے دیتی چاہتی کیا ہے یہ آوارہ مزاجی میری

گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتی Read More »

ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے

غزل ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے جو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھے خیریت بھی مری معلوم نہیں کرتے ہیں اسقدر لوگ پریشان سمجھتے ہیں مجھے شہر سے آؤ تو آنے کا سبب پوچھتے ہیں گاؤں کے لوگ بھی مہمان سمجھتے ہیں مجھے اس لئے میری خوشامد نہیں کرتا کوئی سب

ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے Read More »

سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتی

غزل سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتی محسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتی مظلوموں کی فریاد پہ لرزاں ہے فلک تک اور اہل سیاست کو سنائی نہیں دیتی یوں ظلم و تشدد کے اندھیرے ہیں کہ توبہ جینے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی ہنس ہنس کے ستم فاقوں کے سہہ لیتی ہے لیکن

سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتی Read More »